سوال

زید کی زمین ہے اور عمر نے اس کو غصب کرلیا ہے ، کیا شریعت میں صلح، مصلحت اور عدالتی کاروائی کے علاوہ کوئی اور راستہ ہے ؟یعنی زید اپنی زمین زبردستی واپس لے سکتا ہے یا نہیں اور شریعت میں کسی قسم کی گنجائش ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرزید واقتا مظلوم ہے تو اپنا حق وصول کرنے کے لیے ، قانون کی خلاف ورزی اور فتنہ وفساد سے بچتے ہوئے،مناسب کوشش وکاوش کرسکتا ہے

لما فی القرآن الکریم:( سورة النساء /آیة،59)
یا ایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعو االرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شیئ فردوہ الی اللہ والرسول
وفی الفقہ الاسلا می:(6/4837،رشیدیہ)
اذا اعتدی انسان علی غیرہ فی نفس او مال اوعرض….. فللمتدی علیہ ….ان یرد العدوان بقدراللازم لدفع الاعتداء
وفی الھدایة:(3/371،رشیدیہ)
وعلی الغاصب رد العین المغصوبۃ معناہ مادام قائما لقولہ علیہ السلام علی الید ما اخذت حتی تردہ
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(2/298،قدیمی)
وکذافی تفسیر المنیر:(3/132،امیر حمزہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(11/49،بیروت)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/262،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1442/2020/1/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:107

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔