سوال

ایک عورت دوماہ سےحاملہ ہے،اس کا شوہرصحیح طورپرعلاج معالجہ نہیں کرواتااوروہ عورت اکثربیمار رہتی ہے،کیاوہ عورت اپناحمل ضائع کرواسکتی ہےیانہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس عورت کے لیے علاج کی کوئی اورآسان صورت ممکن ہو مثلاً:سرکاری ہسپتالوں اوردیگرتنظیموں سےمفت یامناسب فیس پرعلاج کراسکتی ہو توحمل ضائع کرواناجائزنہیں،اگرایساممکن نہ ہواورکوئی ماہردین دارڈاکٹرتجویزکرےکہ اگرحمل ضائع نہ کروایاتوجان جانےکایاکسی بڑی بیماری کاخطرہ ہےتو چارماہ سے پہلےپہلےحمل ضائع کروانا جائزہے،اس کے بعدبالکل جائزنہیں۔

لما فی الردالمحتار: (9 /709  ،بیروت )
وجازلعذر)کالمرضعۃاذاظہربھاالحبل،وانقطع لبنھا،ولیس لاب الصبی،مایستأجربہ الظئر ویخاف ھلاک الولد،قالوا:یباح لھاان تعالج فی استنزال الدم مادام الحمل مضغۃ اوعلقۃ ولم یخلق لہ عضو،وقدرواتلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوماً،وجازلانہ لیس باٰدمی ،وفیہ صیانۃ الاٰدمی
وفی الھندیة: (5 /356  ،رشیدیة )
امرأۃ مرضعۃ ظہربھاحبل وانقطع لبنھاوتخاف علی ولدھاالھلاک ولیس لاب ھذاالولدسعۃ حتی یستأجر الظئریباح لھاان تعالج فی استنزال الدم مادام نطفۃ اومضغۃ اوعلقۃ لم یخلق لہ عضووخلقہ لایستبین الابعدمائۃ وعشرین یوماً
وکذافی التاترخانیة: (18 /204  ،فاروقیة )           وکذا فی البحرالرائق: (3 /349  ،رشیدیة )
وکذافی الفتح القدیر: (3 /380  ،رشیدیة )               وکذا فی فقہ الاسلامی: (4 /  2627، رشیدیة)
وکذافی النھرالفائق : (2 /276  ،قدیمی )               وکذا فی حاشیة الطحطاوی: (4 /285  ،رشیدیة )
وکذافی المحیط البرھانی: (8 /84  ،بیروت )            وکذا فی قاضیخان: (6 /368  ،رشیدیة )
واللہ اعلم بالصواب

مجیب:ابومحمدتنویرحسین

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

22/02/1445/9/9/2023

جلدنمبر :30 فتوی نمبر :79

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔