سوال

ایک عورت نے میکے جانے کی ضد کی ،شوہر نے کہا میں پکا پکا چھوڑ آتاہوں، شوہر کا کہنا ہےکہ میری نیت یہ تھی کہ میں جاکر اس عورت کو نہیں لاؤں گا خود آگئی تو ٹھیک ہے ،اس صورت حال میں طلاق ہوجائے گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں طلاق نہیں ہوئی۔

لمافی الھندیة: (1/375 ،رشیدیہ )
الفصل الخامس فی الکنایات)لایقع بھا الطلاق الا بالنیۃاو بدلالۃ الحال ….والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق . … (وحالة) الغضب…. يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية وألحق أبو يوسف رحمه الله تعالى – بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى …وهي لا سبيل لي عليك لا ملك لي عليك خليت سبيلك
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (9/6900،رشیدیہ)
“وفصل الحنفیۃ فی وقوع الطلاق قضاء بالفاظ الکنایات …واما فی حالۃالغضب فیقع الطلاق بلفظ (اعتدی)من غیر نیۃ واماالالفاظ الاخری فتحتاج الی نیۃ.
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/428،دار احیاء)
وکذافی الھدایة : (2/335،رشیدیہ )
وکذافی اللباب : (2/172،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع: (3/168 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر: (4/58 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019-05-28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :86

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔