سوال

میرا نام شاہد اقبال ہے میں بیوپاری اور مل (فیکٹری)کے درمیان مڈل مین کا کردار اداکرتاہوں مثلا مکئ،گندم،کمادوغیرہ ۔ بیوپاری مال مل میں بھیج دیتا ہے۔ مل میں میرے نام سے کھاتہ کھلا ہوا ہے۔ مال فیل ہو یا پاس وہ بیوپاری کا ہوتا ہے ،کٹوتی وٹہ بھی بیوپاری کو لگتا ہے، جو صافی وزن ہوتا ہے وہ ہم بیوپاری کو دے دیتے ہیں۔ فی من بیس سے پچاس روپے تک ہم نفع رکھتے ہیں ۔مل میں مال اترنے کے بعد دوسرے دن بیو پاری کو ہم رقم کی ادائیگی کر دیتے ہیں، مل ہمیں رقم قسطوں میں ادا کرتی ہے۔ ہمارےلیے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور بیوپاری جو ہمارے کھاتے میں مال ڈال کر دوسرے دن ہم سے رقم لے جاتا ہے اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے یانہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مذکورہ میں آپ کا یہ معاملہ درست نہیں، اس کی درست صورت یہ ہو سکتی ہےکہ آپ خودیا آپ کا وکیل بیو پاری سے خریدکر قبضہ کرلے پھر فیکٹری کو نفع کے ساتھ بیچ دے اور بیو پاری کو دوسرے دن رقم دے دےاور خود فیکٹری سے قسطوں میں وصول کرتا رہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5/3380 ،رشیدیہ)
“قال الحنفیۃ :لا یجوز التصرف فی المبیع قبل القبض بلا خلاف لان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع ما لم یقبض.”
وفی الصحیح لمسلم : (2/5،قدیمی)
“عن عبداللہ بن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من اشتری طعاما فلا یبیعہ حتی یستوفیہ ویقبضہ.”
وکذافی الھدایة : (3/78،رحمانیہ )
وکذافی جامع الترمذی: (1/364،رحمانیہ )
وکذافی صحیح البخاری: (1/286،قدیمی)
وکذافی اللباب : (1/219،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10-8-1440،2019-04-16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:30

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔