سوال

ایک عورت کے پاس صرف سونا ہے جس کی مالیت 3 لاکھ ہے ۔ کیا اس پر زکوۃ فرض ہے ؟ اگر ہے تو کتنی اور کب ہوگی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

تنہا سونے پر زکوۃ اس وقت فرض ہوتی ہے ، جب ا س کا نصاب(ساڑھے سات تولہ) پورا ہو ۔ صورت مسئولہ میں چونکہ سونے کا نصاب پورا نہیں ،اس لیے اس سونے پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔

لما فی ردالمحتار:(3/267،سعید)
قولہ (عشرون مثقالا )فمادون ذالک لازکوۃ فیہ ولوکان نقصانا یسیرا
وفی حاشیة الطحطاوی:(1/407،رشیدیہ)
قولہ (عشرون مثقالا )فمادون ذالک لازکوۃ فیہ
وفی المبسوط للسرخسی:(2/190،بیروت)
قال ولیس فی اقل من عشرین مثقالا من الذھب زکوۃ لحدیث عمرو بن حزم…. فذالک تنصیص علی انہ لاشئ فی الذھب حتی یبلغ عشرین مثقالا
وکذافی القدوری:(1/47،الخلیل)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/1823،رشیدیہ)
وکذافی النھرالفائق:(1/436،قدیمی)
وکذافی الجوہرةالنیرة:(1/302،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:158

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔