سوال

اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا گھر ملتان میں ہے،اس نے لاہورمیں بھی ایک مکان خریدا ہے،وہ خود فیملی سمیت ملتان رہتا ہے،لاہور والا مکان صرف اس لیے خریدا ہےکہ اسے کرایہ پر دے گا،تو جب وہ شخص لاہور جائے گا تو پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئلہ میں یہ شخص لاہور میں قصر کرے گا،البتہ اگر وہاں15 دن ٹھہرنے کی نیت کی یا وہاں مستقل رہائش اختیار کرلی تو پوری نماز پڑھے گا۔

لما فی الشامیہ:(2/ 739،رشیدیہ)
فان ماتت زوجتہ فی احداھما وبقی لہ فیہا دوروعقارقیل لایبقی وطناً لہ،اذالمعتبر الاھل دون الدار کما لو تا ھل ببلدۃ واستقرت سکناً لہ ولیس لہ فیھا دار
وفی عمدۃ القاری:(7 /120، داراحیاء التراث)
واما الوجہ الثالث ففیہ بعد اذ لم یقل احد ان المسافر اذا مر بما یملکہ من الارض ولم یکن لہ فیھا اھل ان حکمہ حکم المقیم
وکذافی النھرالفائق :(1 / 349، قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق: (2/ 239،رشیدیہ)
وکذا فی العالمکیریہ : (1/ 142،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی : (2/ 1364،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ: (1/ 150 ،رشیدیہ)
وکذا فی التنویر مع الدر : (2/ 739،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: (2/402 ،دار احیاء)
وکذا فی التاتارخانیہ: (2/ 510،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی: (2/ 108،دار المعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیر الدین عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/1442/6/12/2020
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:2

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔