الجواب حامداً ومصلیاً
فتنہ اور شہوت کا اندیشہ نہ ہو تو سسر سے پردہ ضروری نہیں ، اورعورت اپنے سسر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہے ۔ اس لیے شوہر کی وفات کے بعد بھی اس سے نکاح نہیں کر سکتی ۔
لما فی الھندیة:(1/535،رشیدیہ)
وان کان المنزل لزوجھا وقد مات عنھا فلھا ان تسکن فی نصیبھا……وتستتر عن سائر الورثۃ ممن لیس بمحرم لھا کذا فی البدائع
وفی احکام القرآن للجصاص:(2/185،قدیمی)
قال ابوبکرحلیلۃ الابن ھی زوجتہ …….وعقد نکاح الابن علیھا یحرمھا علی ابیہ تحریما مؤبدا
وفی الفتاوی الولوالجیة:(1/359،حرمین)
واماالسبع اللاتی حرمن بالسبب فالام والاخت من الرضاع وام المراۃ والربیبۃ اذادخلت بامھا وحلیلۃ الابن ومنکوحۃ الاب والجمع بین الاختین
وکذافی ردالمحتار:(3/537،سعید)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(2/231،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(9/605، رشیدیہ)
وکذافی تفسیر المنیر:(2/650،امیرحمزہ)
وکذافی البدائع:(4/292،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:56