سوال

ایک مسئلہ کے بارے میں دریافت کرنا تھا کہ ایک امام صاحب نے مغرب کی نماز پڑھاتے ہوئے تیسری رکعت میں سورت فاتحہ بلند آواز سے پڑھی اور سجدہ سہو نہیں کیا ،تو آیا نماز ہو گئی یا اس کا اعادہ کرنا ہو گا؟ جب امام صاحب کو کہا گیا کہ آپ نے سجدہ سہو نہیں کیا تو امام صاحب نے کہا کہ اگر ظہر یا عصر میں جہرا قرأت ہو جائے توسجدہ سہو ہوتا ہے،مغرب میں نہیں،آیا یہ بات درست ہے جو امام صاحب نے کہی ؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز کا اعادہ ضروری ہے،امام صاحب کی بات درست نہیں۔

لما فی الدرالمختار:(2/200، رشیدیہ)
وقولہ (فیما یجھر ویسر) لف ونشریعنی ان الجھر یجب علی الامام فیمایجھر فیہ وھو صلاۃ الصبح والاولیان من المغرب والعشاء وصلاۃ العیدین ۔۔۔۔۔ والاسرار یجب علی الامام والمنفرد فیما یسر فیہ وھو صلاۃ الظھر والعصر والثالثۃ من المغرب
وكذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/128، رشیدیہ)
وكذا فی فتاوی النوازل :(100، الحقانیہ)
وكذا فی المحیط البرھانی:(2/311، احیاء تراث العربی)
وكذا فی الدر المختار:(2/251،دارالمعرفہ)
وكذا فی البنایہ:(2/737، رشیدیہ)
وكذا فی الجوھرة النیرة:(1/200،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
18، 7، 1440،2019، 3، 26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:71

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔