الجواب باسم ملھم الصواب
احناف کے نزدیک مسافر کسی جگہ پندرہ یا زیادہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو وہ پوری نماز پڑھے گا اور اگر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرےتو قصر کرے گا ،یہی مسلک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کاہے اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی ایک قول یہی ہے۔ انیس دن والی روایت کو فقہاءکرام اس بات پر محمول کرتے ہیں کہ آپ ﷺطائف کے محاصرے یاہوازن کے ساتھ جنگ کی حالت میں تھے تو آپﷺفتح کے منتظر تھے کہ جیسے ہی مکہ مکرمہ فتح ہو ہم یہاں سے کوچ کر جائیں گے، وہاں آپﷺ نے مستقل پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہیں کی تھی اس انتظار کی وجہ سے آپﷺکو وہاں انیس دن ہو گئے اورآپﷺ قصر کرتے رہے۔اورحالت انتظار میں اگر سال بھی گزر جائے تو نماز قصر پڑھنے ہی کا حکم ہے ۔
لما فی فتح الباری:(2/716،قدیمی)
“فالمدة التی فی حدیث ا بن عباس یسوغ الاستدلال بہ على من لم ینو الإقامۃ بل كان مترددا متى یتہیأ لہ فراغ حاجتہ یرحل والمدة التی فی حد یث أنس یستدل بہ على من نوى الإقامۃ لأنہ صلى اللہ علیہ وسلم فی ایام الحج كان جازما بالإقامۃ تلك المدة۔”
وفی فیض الباری:(2/530،رشیدیۃ)
“قلتُ: وحالُھم فی فتح مكۃكان بین أن یفْتَحَ لھم فیقروا، وبین أن یكونَ غیرَ ذلك فیقروا، وكذلك لم یکن لھم نیۃ بعد الفتح أیضًا، لأنہ لم یکن لھم بعد الفَتْح فی المقام بھا غَرَضٌ، إلا أنھم أقاموا بھا قَدْر ما یفْرُغُون عن حوائجھم، بخلاف حالھم فی حجۃالوداع، فإنھم كانوا جازمین بتلك المدۃ، لأنھم وَرَدُوا بھا للحج وسافروا لہ، فقد عزموا لھا مِنْ قبل. وقد سمعت بعضہ من الشیخ رحمہ اللہ فی درس الترمذی.”
وفی مصنف ابن ابی شیبۃ:(2/211،دارالکتب)
“حدثنا وکیع قال ثنا عمر بن ذر عن مجاھد قال :کان عمر اذا اجمع علی اقامۃ خمس عشرۃ سرح ظھرہ وصلی اربعا۔”
وفی بذل الجہود فی حل ابی داود:(6/222، قدیمی)
“عن عمران ابن حصین ۔۔۔۔۔۔ فاقام بمکۃ ثمانی عشرۃ لیلۃ لا یصلی الا رکعتین ۔۔۔۔۔ وھذا الحدیث عند الجمہور محمول علی انہ ﷺلم ینو الاقامۃ فا متد سفرہ الی ھذہ الایام۔”
وکذافی عمدۃ القاری :(7/116،بیروت)
وکذا فی کتاب الاصل:(1/248،عالم الکتب)
وکذافی جامع الترمذی:(1/236،رحمانیۃ)
وکذافی الھندیۃ:(1/139،رشیدیۃ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی :(426،قدیمی)
وکذافی الموسوعۃ الفقھیۃ المقارنۃ:(2/881،محمودیۃ)
وکذافی سنن ابی داود :(1/181،رحمانیۃ)
وکذا فی صحیح البخاری :(ٓ1/221،رحمانیۃ)
وکذافی اعلا ء السنن :(7/314،ادارۃ القرآن)
وفی سنن ابن ماجۃ:(182،رحمانیۃ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019/2/4
جلدنمبر:17 فتوی نمبر 122