الجواب حامداً ومصلیاً
اس طرح کا ٹوٹکا لوگ عموما ایسی چیزوں کو نظر بد سے بچانے میں واقعی مؤثر سمجھ کر اختیار کرتے ہیں، جو کہ سراسر بد اعتقادی اور ناجائز ہے۔ البتہ اس کو محض تدبیر سمجھ کر اور اللہ تعالی کی ذات کو مؤثر حقیقی جانتے ہوئے اختیار کیا جا سکتا ہے ، جس طرح بیماری کے لیے دوا استعمال کی جاتی ہے۔ جیسےآپﷺ نے کھیتی کو نظر بد سے بچانے کے لیے اس میں جا نوروں کی کھوپڑیاں لٹکانے کا حکم دیا۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نظر بد کے علاج کے طور پر ایک بچے کی ٹھوڑی پر کالک لگانے کا حکم دیا ، لیکن لوگوں کو بد اعتقادی سے بچانے کے لیے احتیاط بہتر ہے۔
البتہ نظر بد سے بچنے کے لیے احادیث مبارکہ میں اذکار بھی مو جود ہیں مثلا: اس دعا کا پڑھنا ” أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ.” اور صبح وشام تین تین مرتبہ سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کا اہتمام کرنا اور کسی اچھی چیز کو دیکھ کر برکت کی دعا دینا ۔
لما فی السنن الکبری للبیھقی: ( 6/ 228، دار الکتب العلمیہ)
” أخبرنا أبو حازم الحافظ ۔۔۔عن عمر بن علي بن حسين , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بتلك الجماجم تجعل في الزرع من أجل العين . “
وفی کنزالعمال: ( 4/ 15 ،رحمانیہ )
“احرثوا فان الحرث مبارک واکثروافیہ من الجماجم۔(د فی مراسیلہ عن علی بن الحسین). “
وفی مرقاۃ المفاتیح: (8 /305 ،المکتبہ التجاریہ )
وفي شرح السنة: روي أن عثمان – رضي الله عنه – رأى صبيا مليحا فقال: دسموا نونته كيلا تصيبه العين، ومعنى دسموا: سودوا، والنونة النقرة التي تكون في ذقن الصبي الصغير
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/370 ،الطارق )
” ولھذا قال الفقہاء: لا باس بوضع الجماجم بالزرع والمبطخۃ-الارض التی زرع فیھا البطیخ- لدفع ضرر العین
وکذافی الشامیہ: (9 /601 ،دار المعرفہ )
وکذا فی عمل الیوم واللیلۃ للنسائی : (291 ،دار الباز )
وکذافی روح المعانی : (30 /279 ،دار احیاءالتراث )
وکذا فی تفسیر ابن کثیر : (4 /613 ،دار المعرفہ )
وکذافی سنن ابن ماجہ : ( 385 ،رحمانیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2-08-1440، 2019-04-8
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :2