سوال

گر کسی نے سفر شروع کرنا ہے اور اپنی سواری ہے، تو کیا وہ مثل ثانی میں نماز عصر ادا کرسکتا ہے؟اگر ادا کرلی تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

عصر کی نماز دو مثل کے بعد ادا کی جائے، عام حالات میں اسی پر عمل کر نے میں احتیاط ہے اور یہی مفتی بہ قول ہے۔ لیکن دوسرا قول یہ بھی ہے کہ عصر کا وقت ایک مثل کے بعد شروع ہوجا تا ہے۔ اگر کوئی شخص سفر یا مرض کی وجہ سے یا باجماعت نماز کے حصول کے لیے اس قول پر عمل کر لے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیہ : ( 1/51 ،رشیدیہ )
“قالوا الاحتياط أن يصلي الظهر قبل صيرورة الظل مثله ويصلي العصر حين يصير مثليه ليكون الصلاتان في وقتيهما بيقين . “
وفی فیض الباری: (2 /132 ،رشیدیہ )
“فتحصل أنه صلى الظهر تارة في المثل وهو وقتها المختص وتارة في المثل الثاني وهو الوقت الصالح لها، وكذلك صلى العصر تارة بعد المثل الأول، وهو وقت صالح لها أيضا، وصلاها تارة بعد المثل الثاني قبل نهاية المثل الثالث، وهو الوقت المختص بها مع إبقاء الفاصلة بين الصلاتين في اليومين، وهذا عين مذهبنا ولله الحمد أولا وآخرا
وکذافی الشامیہ: ( 2/19 ،دار المعرفہ )
وکذا فی البحر الرائق: (1 /425 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /317 ،رشیدیہ )
وکذا فی شرح النقایہ لعلی القاری رحمہ اللہ: (1 /177 ،ایچ-ایم-سعید )
وکذافی ملتقی الابحر: (1 /104 ،المنار-کوئٹہ )
وکذا فی المبسوط : (1 /143 ،دار المعرفہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8-08-1440، 2019-04-14
جلد نمبر : 19 فتوی نمبر :20

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔