سوال

بغیر عذرکےمحض سستی کی وجہ سےچار پائي یابیڈ یالکڑی کےبنےہوےجائےنمازپرنمازپڑھ لی جاتی ہےکیا یہ درست ہےاس میں شرعی حکم واضح فرمائیں؟

جواب

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں ان اشیاء پراگر كھڑےہوکر نماز پڑھی جائےتو درست ہے،بشرطیکہ چارپائی کسی ہوئی اورسخت ہواوربیڈپربہت زیادہ موٹا گدّا نہ ہو۔

لما فی الہندية:(1/70،رشدية)
ولو سجدعلی الحشیش ا والتبن او علی القطن او الطنفسۃ او الثلج ان اسقرت جبہتہ وانفہ ویجد حجمہ یجوزوان لم تسقر لا.
وفی الشا مية:(ا/500،سعید)
(قولہ وان یجد حجمہ الارض)تفسيرہ ان الساجد لوبالغ لایتسفل رﺃسہ ابلغ من ذالک ،فصح علی طنفسۃوحصیر حنطۃوشعیر وسریر وعجلۃان کانت علی الارض۔۔۔کبساط مشدود بین اشجار.”
وکذافی التبیین:(1/117،امدادیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/54،رشیدية)
وکذافی مجمع الانھر:(1/230،المنار)
وكذافی الفقہ الحنفی:(1/208،الطارق)
وکذافی حاشيةالطحطاوی:(1/320،رشدية)
وکذافی الصحیح البخاری:(1/55،قدیمی)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/291،رشیدية)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
دارا لافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440 ، 2019/2/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :171

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔