سوال

تعزیت کے لیے مسجد میں بیٹھنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا فقہاء رحمھم اللہ کے ہاں مختلف فیہ ہے، بعض کے ہاں جائز اور بعض کے ہاں مکروہ ہے، البتہ ہمارے زمانے میں چونکہ لوگوں میں دین سے واقفیت بہت کم ہے، اب اگر مسجد میں تعزیت کی اجازت دی جائے تو دوسری خرابیاں سامنے آئیں گی مثلاً حقہ وسگریٹ نوشی، مسجد کے اندر غیبت، چغلخوری، فضول گوئی اور دنیاوی باتیں وغیرہ شروع ہو جائیں گی، اس لیے مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا جائز نہ ہو گا۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1572،رشیدیہ)
یجلس المعزی عند المصاب للتعزیۃ لما فی ذلک من استدامۃ الحزن وقال الحنفیۃ لابأس بالجلوس للتعزیۃ فی غیر المسجد ثلاثۃ ایام واولھا افضل
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/383،رشیدیہ)
الجلوس فی المسجد ثلاثۃ ایام للتعزیۃ مکروہ وفی غیرہ جازت الرخصۃ ثلاثۃ ایام للرجال و ترکہ احسن
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(315،زمزم)
وکذافی الشامیة:(3/176،دارالمعرفہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(12/288،علوم اسلامیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/342،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/95،فاروقیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/167،رشیدیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(612،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443-2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:92

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔