سوال

اذان دینے کے لیے جو مسجد میں مقرر ہے، اس کی اجازت کے بغیر دوسرا شخص اقامت کہہ سکتا ہے یا اس کی اجازت ضروری ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اگر مؤذن ناراض نہ ہو تو بغیر اجازت کےاقامت کہہ سکتے ہیں، لیکن اگر اس کے ناراض ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر اس کی اجازت کے بغیر اقامت کہنا ناپسندیدہ ہے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(1/718،رشیدیہ)
الافضل فی المذاھب الاربعۃ ان یتولی الاقامۃ من اذن اتباعا للسنۃ فھو مقیم۔۔۔۔ لکن قال الحنفیۃ یکرہ ان یقیم غیر من اذن ان تأذی بذلک لان اکتساب اذی المسلم مکروہ، ولا یکرہ ان کان لایتأذی بہ
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(99،بشری)
من اذن فھو احق بان یقیم فان اقام غیرہ یکرہ الان یغٰب المؤذن او یرضی لغیرہ فیجوز بلا کراھۃ
وکذافی الشامیة:(2 /79،دارالمعرفہ)
وکذافی الھندیة:(1/54،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/447،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/50،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/79،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(1/392،ادارة القران)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1443-2022/4/9
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:88

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔