سوال

تقسیمِ ترکہ سے پہلے میت کے بیٹے اپنی بہن کی شادی میت کے ترکہ سے کرنا چاہتے ہیں اور سب ورثہ اس پر راضی بھی ہیں،تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

کر سکتے ہیں،بشرطیکہ تمام ورثہ عاقل،بالغ ہوں۔

لما فی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/405،رشیدیة کوئٹہ)
وان اتخذ طعاما للفقراء کان حسنا اذا کانوا بالغین.فان کان فی الورثۃ صغیر لم یتخذوا ذلک من الترکۃ
وفی الھندیة:(5/344،رشیدیة کوئٹہ)
وان اتخذ طعاما للفقراء کان حسنا اذا کانت الورثۃ بالغین فان کان فی الورثۃ صغیر لم یتخذوا ذلک من الترکۃ
وفیه ایضاً:(6/91، رشیدیة کوئٹہ)
وفی کل موضع یحتاج الی الاجازۃ انما یجوز اذا کان المجیز من اھل الاجازۃ نحو ما اذا اجازہ وھو بالغ عاقل صحیح
وکذافیه ایضاً:(2/444، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی التاتارخانیة:(18/176،فاروقیة کوئٹہ)
وکذافی التنویر مع شرحه:(6/656،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی الفقه الاسلامی وادلته:(10/7542، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:164

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔