الجواب حامداً وّمصلّیاً
قرآنِ کریم میں ہے :”فان لم یکن لہ ولد و ورثہ ابواہ فلامہ الثلث (النساء:11)“اگر میت کی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں تہائی حصے کی حق دار ہے۔
اس آیت میں ”و ورثہ ابواہ فلامہ الثلث“کا مطلب یہ ہے کہ والدین کا جو حصہ ہوگا اس میں سے ایک ثلث ماں کو اور دو ثلث باپ کو ملے گا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ماں کو ثلث باقی دیا جائے،ورنہ تو خلافِ نص لازم آئے گاوہ اس طرح کہ
(1)
جب میت کی بیوی ،والد اور والدہ زندہ ہوں اور ام کو ثلث کل دیں تو
ماں کو بارہ میں سے 4 اور باپ کو 5 ملے گا،اس طرح ماں کا حصہ باپ سے تھوڑا سا کم ہوگاجو کہ نص کے خلاف ہے
(2)
اور جب میت کا شوہر ،والد اور والدہ زندہ ہوں اور ام کو ثلث کل دیں تو
ماں کو 6 میں سے 2 اور باپ کو 1 ملے گا،اس طرح ماں کو باپ سے دو گنا ملے گااور یہ بھی خلافِ نص ہے۔
اور” للذکر مثل حظ الانثیین“ والے اورقرآنی ضابطے کا تقاضابھی یہی ہے کہ ماں کو ثلث باقی دیا جائے نہ کہ ثلث کل۔
چنانچہ جب ماں کو ثلث باقی دیں گے تو دونوں صورتوں کی تقسیم یوں ہوگی:
دونوں صورتوں میں ماں کو باپ کے حصے کا نصف ملا ہے اور دونوں کے حصے کے اعتبار سے باپ کو دو تہائی اور ماں کو ایک تہائی ملا ہےاور یہ نص کے مقتضیٰ کے بالکل مطابق ہے۔
لما فی دلیل الوارث علی ھامش السراجی:(29،البشری کراچی)
زوج وابوین:للزوج النصف ،و للام ثلث ما بقی ،فیکون المسألۃ من ستۃ ،فیعطی الثلاثۃ للزوج ،ویبقی ثلاثۃ ،اعطینا الام ثلث مابقی من فرض الزوج وھو واحد ،و یبقی الاثنان اعطیناھما الاب وھوضعف نصیب الام ،وانما لا تعطی الام ھھنا ثلث الکل لئلا یلزم ان یکون نصیب الام ضعف نصیب الاب ،وھو غیر جائز اتفاقا
وفی الفقه الاسلامی و ادلته:(10/7788،رشیدیة کوئٹہ)
” الثالثة – ثلث الباقي إذا كان مع الأبوين أحد الزوجين، وهي المسألة العمرية أو الغراء، كما في زوج وأب وأم، أو زوجة وأب وأم، ففي الأولى للزوج النصف ثلاثة من ستة وللأب الباقي تعصيباً، وللأم ثلث الباقي بعد فرض الزوج، وهو سهم من ستة. وفي الثانية للزوجة الربع من 12 لعدم الفرع الوارث وللأب الباقي تعصيباً وهو ستة، وللأم ثلث الباقي وهو ثلاثة أسهم….. والدليل:
1
قوله تعالى: {فإن لم يكن له ولد، وورثه أبواه فلأمه الثلث} [النساء:11/ 4] إذ يجب أن يكون المراد بالثلث فيه ثلث مايستحقه الأبوان، لا ثلث جميع المال، لئلا يكون قوله: {وورثه أبواه} [النساء:11/ 4] خالياً عن الفائدة، وثلث مايستحقانه هنا هو ثلث الباقي بعد فرض أحد الزوجين.
2
لو أخذت الأم هنا ثلث جميع المال، لكان لها ضعف الأب، إن كان معهما زوج، أو قريب من نصيبه لو كان معهما زوجة، وهذا لايتفق مع النص الذي يقتضي أن يكون للأنثى نصف الذكر
وکذافی البحر الرائق:(9/371، رشیدیة کوئٹہ) وکذافی تبیین الحقائق:(6/231،امدادیة ملتان)
وکذافی تفسیر المظھری:(2/23،رشیدیة کوئٹہ) وکذافی تفسیر ابی سعود:(2/124،الوحیدیة پشاور)
وکذافی الکشاف:(1/483،نشر البلاغة سوق القدس) وکذافی التفسیر الکبیرللرازی:(3/516،علوم اسلامیہ لاھور)
وکذافی الاکلیل علی مدارك التنزیل:(2/541،دار الکتاب العلمیة بیروت)
واللہ تعالیٰ خیر الوارثین
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:173