الجواب حامداً وّمصلّیاً
جمع حقیقی تو کسی صورت جائز نہیں اور بلا عذر جمع صوری بھی جائز نہیں ہے،کیونکہ قرآن و حدیث میں نمازوں کے اوقات کو متعین کیا گیا ہے،ان کی محافظت و پابندی ضروری قرار دی ہے اور بلا عذر خلاف ورزی سے منع کیا گیا ہے،چنانچہ متعدد آیات و روایات میں نمازوں کو ان کے مستحب اوقات سے آگے پیچھے پڑھنے پر سخت نکیر کی گئی ہے،چنانچہ اس سلسلہ کی چند آیات و احادیث مندرجہ ذیل ہیں
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء:103)
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (البقرۃ:238)
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْآخِرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»(المستدرک علی الصحیحین:1/297،قدیمی کتب خانہ )
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الكَبَائِرِ»(جامع الترمذی:1/145،رحمانیہ لاھور)
لہٰذا نمازوں کو ان کے مستحب اوقات میں ادا کرنا چاہیے،البتہ سفر وغیرہ کا عذر ہو تو پھر جمع صوری کی اجازت دی گئی ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442//2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:85