سوال

ایک شخص کہتا ہے:دو نمازوں میں جمع صوری تو ہر شخص اپنے گھر میں کر سکتا ہے۔سفر میں جس جمع کی اجازت دی گئی ہے وہ جمع حقیقی ہےاور تمام احادیث اسی پر دلالت کرتی ہیں۔اگر سفر میں بھی صرف جمع صوری کی اجازت ہے توپھر یہ سہولت تو نہ ہوئی۔اس کا جواب کیا ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جمع حقیقی تو کسی صورت جائز نہیں اور بلا عذر جمع صوری بھی جائز نہیں ہے،کیونکہ قرآن و حدیث میں نمازوں کے اوقات کو متعین کیا گیا ہے،ان کی محافظت و پابندی ضروری قرار دی ہے اور بلا عذر خلاف ورزی سے منع کیا گیا ہے،چنانچہ متعدد آیات و روایات میں نمازوں کو ان کے مستحب اوقات سے آگے پیچھے پڑھنے پر سخت نکیر کی گئی ہے،چنانچہ اس سلسلہ کی چند آیات و احادیث مندرجہ ذیل ہیں

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء:103)

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (البقرۃ:238)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْآخِرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»(المستدرک علی الصحیحین:1/297،قدیمی کتب خانہ )

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الكَبَائِرِ»(جامع الترمذی:1/145،رحمانیہ لاھور)

لہٰذا نمازوں کو ان کے مستحب اوقات میں ادا کرنا چاہیے،البتہ سفر وغیرہ کا عذر ہو تو پھر جمع صوری کی اجازت دی گئی ہے۔

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442//2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:85

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔