سوال

کیاجیل کی مسجد میں نمازِجمعہ ہو جاتی ہے؟حالانکہ وہاں اذنِ عام نہیں ہوتا،بلکہ صرف جیل سے متعلقہ افراد ہی شرکت کر سکتے ہیں اور جن لوگوں نے وہاں نمازِ جمعہ پڑھی یا پڑھائی،ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جیل کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے لیے اذنِ عام کا نہ ہونا،دفاعی اور انتظامی مجبوریوں کی وجہ سے ہوتا ہے،لہٰذا جیل کی مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھنا صحیح ہے اور جن لوگوں نے وہاں نماز پڑھی یا پڑھائی ان کی نماز ہوگئی۔

 

لما فی التنویر مع شرحه:(2/152،ایچ.ایم.سعید کراچی)
و)السابع:(الاذن العام) من الإمام، ……..فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن
وفی مجمع الانھر:(1/276،المنار کوئٹہ)
والإذن العام)،…….،قالوا: السلطان إذا أراد أن يصلي بحشمه في داره فإن فتح الباب وأذن إذنا عاما جازت الصلاة ولكن يكره وإلا لم يجز كما في الكافي ،وما لا يقع في بعض القلاع من غلق أبوابه خوفا من الأعداء ،أو كانت له عادة قديمة عند حضور الوقت فلا بأس به لأن إذن العام مقرر لأهله ،ولكن لو لم يكن لكان أحسن

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:165

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔