سوال

جانور خرید کر ادھیے وغیرہ پر دینا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جانوروں کو ادھیہ پر دینے کے بارے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے۔حنابلہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں اور حنفیہ ناجائز،البتہ موجودہ دور کے بعض علمائے کرام نے عمومِ بلوی کی وجہ سے اس کے جائز ہونے کا قول اختیار کیا ہے،چنانچہ ہندوستان کے مشہور عالمِ دین، شیخ الاسلام ،حضرت مولانا مفتی خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تحریر کیا ہے
آج کل مویشیوں میں بٹائی پر لین دین اور ادھیا پر دینے کا عام رواج ہے۔فقہائے حنابلہ رحمھم اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی اجازت ہے احناف رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے البتہ یہ حیلہ بتلایا ہے کہ اس کا آدھا حصہ پرورش کرنے والے کے ہاتھ فروخت کر دے اور پھر اس کو قیمت سے بری الذمہ کر دے،اس طرح جانور میں دونوں کی شرکت ہو جائے گی اور اس سے حاصل ہونے والے منافع دودھ اور بچوں میں دونوں شریک ہو جائیں گے۔

والحیلۃ فی جوازہ ان یبیع نصف البقرۃ منہ بثمن ویبرئہ عنہ ثم ما یامر باتخاذ اللبن و المصل فیکون بینھما و کذا لو دفع الدجاج علی ان یکون البیض بینھما

ترجمہ:اس کے جواز کے لئے حیلہ یہ ہے کہ جانور کا نصف پالنے والے کے ہاتھ فروخت کر دے اور پھر قیمت معاف کر دے ،پھر دودھ اور گھی وغیرہ حاصل کرنے کا حکم کرے اور حاصل ہونے والی چیزیں دونوں کے درمیان تقسیم ہوا کریں گی اور ایسا ہی حکم ہوگا اگر مرغی کو اس شرط پر دیا ہو کہ انڈے دونوں کے درمیان تقسیم ہوا کریں گے۔
راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس تکلف کی بجائے موجودہ زمانہ میں عرف و رواج کی بنیاد پر حنابلہ رحمھم اللہ تعالیٰ کا نقطۂ نظر اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کارجحان بھی اسی طرف ہے۔اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں۔

کتب الیٰ بعض الاصحاب من فتاوی ابن تیمیۃ کتاب الاختیارات ما نصہ ولو دفع دابتہ او نخلہ الیٰ من یقوم لہ،ولہ جزء من نمائہ صح وھو روایۃ عن احمد

پس حنفیہ کے قواعد پر تو یہ عقد ناجائز ہے،کما نقل فی السوال عن العالمگیریۃ.،لیکن بنا بر نقل بعض اصحاب امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے،پس تحرز احوط ہے اور جہاں ابتلاء شدید ہو توسع کیا جا سکتا ہے۔

(جدید فقہی مسائل:1/275،زمزم پبلشرز)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/5/1442/2021/1/8
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:130

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔