سوال

آج کل فیس بک اور واٹس ایپ پر تصویریں سینڈکی جاتی ہیں اور ان پر کمنٹ میں”ماشاء اللہ“اور”سبحان اللہ“کہا جاتا ہے۔کیا تصویروں پر اس طرح کے کلمات کہنا درست ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

موبائل وغیرہ کی سکرین پر نظر آنے والے عکس میں تصویر کی بنیادی شرط”استقرار و قائم ہونا“موجود نہیں ہے،اس لیے علمائے کرام اور مفتیانِ عظام کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک یہ شرعاً تصویر میں داخل نہیں ہیں۔دار الافتاء جامعۃ الحسن،ساہیوال کی بھی اس بارے میں یہی رائے ہے۔
چونکہ یہ شرعاً تصویر میں داخل نہیں،اس لیے ان پر ”سبحان اللہ“اور”ماشاء اللہ“وغیرہ کے کمنٹ دینے کی گنجائش ہے،البتہ بلا ضرورت اس طرح تصویریں بنانا اور ان کو فیس بک وغیرہ پر”اپ لوڈ“کرنا اور ان پر کمنٹ وغیرہ کرنا ناپسندیدہ اور تضییعِ اوقات کا سبب ہے۔

لما فی تکملة فتح الملھم:(4/164.165،دار العلوم کراچی)
فان کانت صور الانسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الانسان امام الکیمرا،فان الصورۃ لا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ،وانما ھی اجزاء کھربائیۃ تنتقل من الکیمرا الی الشاشۃ و تظھر علیھا بترتیبھا الاصلی،ثم تفنی و تزول.واما اذا احتفظ بالصورۃ فی شریط الفیدیو،فان الصور لا تنتقش علی الشریط وانما تحفظ فیھا الاجزاء الکھربائیۃ التی لیس فیھا صورۃ فاذا ظھرت ھذہ الاجزاء علی الشاشۃ ظھرت مرۃ اخری بذلک الترتیب الطبیعیّ،ولکن لیس لھا ثبات ولا استقرار علی الشاشۃ،وانما ھی تظھر و تفنی.فلا یبدو ان ھناک مرحلۃ من المراحل تنتقش فیھا الصورۃ علی شیئ بصفۃ مستقرۃ او دائمۃ.وعلی ھذا،فتنزیل ھذہ الصورۃ منزلۃ الصورۃ المستقرۃ مشکل

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:163

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔