سوال

یوٹیوب چینل بنا کر اس سے کمائی حاصل کرنا جائز ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

یوٹیوب چینل پر ”اَپ لوڈ“ کیا جانے والا مواد یعنی ویڈیوز وغیرہ اگر ناجائز امور مثلا : گانا بجانا ،فحش گوئی اور عورتوں کی تصاویر وغیرہ پر مشتمل نہ ہو تو اس کی کمائی جائز ہے ،ورنہ نہیں ۔

لمافی الھندیة:(4/449،رشیدیة)
ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو وعلى هذا الحداء وقراءة الشعر وغيره ولا أجر في ذلك وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(3/116،رشیدیة)
ولا یجوز الاستیجار علی شئ من الغناء و النوح والمزامير ولا أجر لہم
وکذافی المحیط البرھانی:( 11/217،داراحیاء)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/31،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق:(8/36 ، رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(15/7،فاروقیة)
وکذا فی مجمع الانھر:(3/533، المنار)
وکذا فی الولوالجیة:( 3/333، الحرمین)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب بن قاسم خان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:61

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔