الجواب حامداً ومصلیاً
ایک انسان کے بال دوسرے انسان کو لگاناجائز نہیں ہے،البتہ اگر اپنے ہی جسم کےکسی حصے سے اتار کر دوسرے حصے پر لگائے جائیں تو گنجائش ہے۔
لما فی الدر المختار:(1/401،رشیدیہ)
المنفصل من الحی کمیتتہ الا فی حق صاحبہ فطاھر
وفی الموسوعة الفقھیه:(26/102،علوم اسلامیہ)
واتفق الفقھاء علی عدم جوازالانتفاع بشعر الاٰدمی بیعا واستعمالا
وفی البحر الرائق:(1/192،رشیدیہ)
وان قطعت اذنہ قال ابو یوسف لاباس بان یعیدھا الی مکانھا
وکذافی مجمع الانھر:(3/85،مکتبة المنار)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(3/115،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/334،بیروت)
وکذافی البدائع الصنائع:(4/316،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/365،الطارق)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/281،283،معارف القراٰن)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:69