الجواب حامداً ومصلیاً
بہنوں کو وراثت سے محروم کرنا بدترین گناہ ہے،آج کل یہ قبیح رسم چل پڑی ہے کہ بہنوں کو حصہ نہیں دیا جاتا اور ان کے مطالبہ کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے،اس لیے عموماً بہنیں رواج سے مجبور ہو کریا بھائیوں کی قطع تعلقی کے خوف سے کہہ دیتی ہیں کہ ہم نے معاف کر دیا حالانکہ ان کی دلی رضا مندی نہیں ہوتی،اس لیے میراث تقسیم کر کے بہنوں کو ان کا حصہ سپرد کر دیا جائے پھر وہ چاہیں تو اپنی خوشی سے واپس کر دیں۔
لما فی القرآن الکریم:(النسآء،11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ
وفی الصحیح لمسلم:(2/32،الحسن)
عن عباس بن سهل بن سعد الساعدي، عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين
وفی الاشباہ والنظائر:(2/388،ادراة القرآن)
لو قال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ اذا الملک لا یبطل بالترک
وکذافی صحیح البخاری:(1/332،قدیمی)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/272،261،رحمانیہ)
وکذافی شعب الایمان:(6/224،بیروت)
وکذافی الاکلیل علی مدراک التنزیل وحقائق التاویل:(2/539،بیروت)
وکذافی نظم الدرر:(2/220،بیروت)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/149،التجاریہ)
وکذافی شرح الحموی علی الاشباہ والنظائر:(2/388،389،ادارة القرآن)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/3/2021/1442/7/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:33