الجواب حامداً ومصلیاً
غسل اور تکفین کے بعد نماز جنازہ میں تاخیر مکروہ ہے ، اس لیے جتنی جلدی ہو سکے جنازہ اور تدفین ہونی چاہیے ، البتہ اگر کوئی معقول عذر ( مثلا بارش وغیرہ ) ہو تو بقدر ضرورت تاخیر کی گنجائش ہے۔
لما فی السنن ابی داؤد:(2/97،رحمانیہ)
ان طلحۃ بن البراء مرض فاتاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعودہ فقال انی لااری طلحۃ الا قد حدث فیہ الموت فاذنونی بہ وعجلوا فانہ لاینبغی لجیفۃ مسلم ان تحبس بین ظھرانی اھلہ
وفی البحرالرائق:(2/335،رشیدیہ)
وفی القنیۃ ولوجھز المیت صبیحۃ یوم الجمعۃ یکرہ تاخیرالصلاۃ ودفنہ لیصلی علیہ الجمع العظیم بعد صلاۃ الجمعۃ
وفی التبیین الحقائق:(1/244،امدادیہ)
ای یسرع بالمیت….. لحدیث ابن عمر انہ علیہ الصلاۃ والسلام قال اسرعوا بالجنازۃ فانکانت صالحۃ قربتموھا الی الخیر وانکانت غیر ذالک فشر تضعونہ عن اعناقکم
وکذافی النھر الفائق:(1/400،امدادیہ)
وکذافی ردالمحتار:(2/193،سعید)
وکذافی عون المعبود:(8/243،قدیمی)
وکذافی بذل المجھود:(14/86،قدیمی)
وکذافی التبیین الحقائق:(1/244،امدادیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:87