سوال

شہر سے دور دراز ایک بستی ہے جہاں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں ، لیکن جمعہ کے دن وہاں ایک بڑا بازار لگتا ہے جس میں عارضی طور پر تقریباً 60 کے قریب سٹال لگائے جاتے ہیں اور آس پاس کے علاقوں سے بہت سے لوگ وہاں آتے ہیں ۔ کیا اس جگہ جمعہ کی نماز پڑھی جاسکتی ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صرف ایک دن بازار لگنے کے باوجودبعض شرائط پھر بھی نہیں پائی جاتیں ، اس لیے جمعہ جائز نہیں ہوگا ۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/439،بیروت)
للجمعۃ شرائط احدھا المصر….. (وبعد صفحۃ) قال شمس الائمۃ ظاھر المذھب ان المصر الجامع ان یکون فیہ جماعات الناس وجامع واسواق للتجارات وسلطان
وفی التنویر مع الدر:(2/144،سعید)
وجازت) الجمعۃ( بمنی فی الموسم) فقط (ل) وجود( الخلیفۃ)
وفی ردالمحتار تحتہ:(2/144،سعید)
قولہ فی الموسم) ای موسم الحاج وھو سوقھم ومجتمعھم من الموسم
وفی تقریرات الرافعی:(2/111،سعید)
قولہ ای موسم الحاج) فانھا تتمصر ایام الموسم لان لھا بناء وتنقل الیھا الاسواق و یحضرھا وال وقاض
وکذافی الھندیة:(1/145،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/1294،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/222،قدیمی)
وکذافی المختصر فی فقہ الحنفی:(1/201،بشری)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/338،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:156

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔