سوال

مثل اول اور مثل ثانی کی وضاحت کیا ہے ؟ (2) احناف کے ہاں جمع بین الصلاتین (صوری) کس وقت اور کن کن حالات میں کرسکتے ہیں ؟ (3) عام حالات میں مثل ثانی میں کبھی ظہر کو اور کبھی عصر کو (دونوں کو جمع کیا بغیر) پڑھنا کیسا ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جتنا سایہ ٹھیک دوپہر میں ہوتا ہے اس کو چھوڑ کر جب ہر چیز کا سایہ ایک گنا ہوجائے تو یہ وقت مثل اول کہلائے گا اور جب ہر چیز کا سایہ مزید بڑھ کر دو چند ہوجائے تو یہ وقت مثل ثانی کہلائےگا مثلا ایک گز لکڑی کاسایہ ٹھیک دوپہر میں چار انچ ہو ، تو جب اس کا سایہ ایک گز اور چار انچ ہوجائے تو مثل اول اور دوگز چارانچ ہوجائے تو مثل ثانی ہوگا ۔
احناف کے ہاں جمع بین الصلاتین(جمع صوری ) عذر اور ضرورت کے حالات میں جائز ہے بشرطیکہ معمول نہ بنایاجائے ۔ یہ مسئلہ چونکہ خود احناف کےہاں مختلف فیہ ہے ، اس لیے عذر (مثلا سفر یا جب غیرمقلد کی اقتداء کرنی پڑجائے ) میں عصر کو مثل ثانی میں پڑنے کی گنجائش ہے ۔ البتہ ظہر کو مثل ثانی میں پڑنا جائز تو ہے ،لیکن خلاف احتیاط ہے ۔

لما فی الھندیة:(1/51،رشیدیہ)
فاذا ازداد علی ذالک وصارت الزیادۃ مثلی ظل اصل العود سوی فیئ الزوال یخرج وقت الظھر عند ابی حنیفۃ
وفی التاتارخانیة:(2/5،فاروقیہ)
واختلفوا فی آخر وقت الظھر ، روی الحسن عن ابی حنیفۃ ان آخر وقت الظھر ان یصیر ظل کل شیئ مثلہ سوی الظل الاصلی
وفی الجامع للترمذی:(1/145،رحمانیہ)
عن بن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من جمع بین الصلاتین من غیر عذر فقد اتی بابا من ابواب الکبائر
وفی مرقاة المفاتیح:(5/500،التجاریہ)
وقال العینی وماورد فی الاحادیث من الجمع بین الصلاتین فی السفر فمعناہ الجمع بینھما فعلا لاوقتا کذا ذکرہ القسطلانی
وفی الفقہ الاسلامی:(2/1375،رشیدیہ)
واما المرض کالمبطون او غیرہ فیجیز الجمع الصوری بان یصلی الفرض فی آخر وقتہ الاختیاری والفرض الثانی فی اول وقتہ الاختیاری

 

وکذافی فتح الملھم:(4/81،دار العلوم کراچی)
وکذافی معارف السنن:(2/165،سعید کراچی)
وکذافی بذل المجھود:(6/207،قدیمی کراچی)
وکذافی رد المحتار:(2/20،رشیدیة کوئٹہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/1/2021/1442/5/29

جلد نمبر:22 فتوی نمبر:147

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔