سوال

حجامہ کی اجرت لینا جائز ہے یا ناجائز؟احادیث میں دونوں طرح کی باتیں ملتی ہیں ۔تفصیلی راہنمائی فرمائیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بخاری مسلم و دیگر کتب حدیث میں اکثر روایات حجامہ کی اجرت کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ، اگر چہ بعض روایات میں ممانعت بھی آئی ہے ، تاہم ممانعت والی روایات کا ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ اجازت والی روایات کی وجہ سے ممانعت منسوخ ہوگئی ہے۔ اور دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ روایات زمانہ جاہلیت والے طریقے کے بارے میں ہیں جس میں منہ سے خون چوسنا پڑتا تھا ۔ آج کل چونکہ حجامہ کے لیے ایسے جدید آلات میسر آچکے ہیں جن کے ذریعے حجامہ کرنے سے کسی طرح کی نجاست میں تلوث کا اندیشہ نہیں ہوتا ، اس لیے اب حجامہ کی اجرت بلاکراہت جائز ہے ۔ اوراگر اس سے عمدہ کاروبار باآسانی میسر ہوسکے تو اس کو ترجیح دے کر اختلاف سے بچنا بہتر ہے ۔

لما فی الصحیح للبخاری:(1/401،رحمانیہ)
عن ابن عباس قال احتجم النبی صلی اللہ علیہ وسلم واعطی الحجام اجرہ ولوعلم کراہیۃ لم یعطہ
وفی الصحیح للمسلم:(2/22،قدیمی)
عن حمید قال سمعت انسا یقول دعا النبی صلی اللہ علیہ وسلم غلاما لنا حجاما فحجمہ فامر لہ بصاع او مد او مدین وکلم فیہ فخفف عن ضریبتہ
وکذافی الھدایة:(3/305،رشیدیہ)
وکذافی العنایة:(9/97،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(15/7،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(11/350،بیروت)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/534،دارالعلوم)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:168

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔