سوال

غلام سرور (جس کے متعلق اھل علاقہ کا کہنا ہے کہ چند سالوں سے مستقل مریض ہے اور اس مرض میں اکثر و غالب اپنے ہوش و حواس برقرار نہیں رکھ پاتا ) نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دیدی اور بعد میں حلفا کہتا ہے مجھے نہیں پتہ کہ میں نے کیا بولا ؟ جبکہ بیٹی کا بیان ہے کہ ابو کی طبیعت خراب تھی ، انہوں نے مجھ سے موبائل مانگا، میں نے دیدیا ۔ پھر انہوں نے طلاق کا لفظ بولا ۔ اس کے بعد موبائل ان کے ہاتھ سے گرگیا اور خود ابو بھی بے ہوش ہوگئے ۔ کیا اس صورت میں طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر غلام سرور پر اس وقت اپنی بیماری کی وجہ سے واقعتاً جنون اور پاگل پن طاری تھا تو طلاق نہیں ہوئی ۔اوراگر اس وقت وہ نارمل حالت میں تھا تو ایک طلاق رجعی ہوگئی ہے ۔

لما فی ردالمحتار:(3/244،سعید)
والذی یظھر لی ان کلا من المدہوش والغضبان لایلزم فیہ ان یکون بحیث لایعلم مایقول بل یکتفی فیہ بغلبۃ الھذیان واختلاط الجد بالھزل کما ہو المفتی بہ
وفی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)
ولایقع طلاق الصبی وان کان یعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمی علیہ والمدہوش ھکذا فی فتح القدیر
وکذافی الھدایة:(2/373،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(3/243،سعید)
وکذافی التنویر:(3/235،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر:24 فتوی نمبر :169

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔