الجواب حامداً ومصلیاً
مزدلفہ مغرب تک پہنچنا ضروری نہیں بلکہ رات کے کسی بھی حصہ میں جاسکتا ہے ، لیکن مغرب و عشاء کی نماز مزدلفہ میں پڑھنا ضروری ہے ، کیونکہ وقوف مزدلفہ کے واجب قیام کا اصل وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے لے کر طلوع شمس تک ہے ۔
لما فی البدائع:(2/322،رشیدیہ)
واما زمانہ فمابین طلوع الفجر من یوم النحر و طلوع الشمس فمن حصل بمزدلفۃ فی ھذا الوقت فقد ادرک الوقوف سواء بات بھا او لا
وفی التنویر مع الدر:(2/511،سعید)
ثم وقف )بمزدلفۃ ، ووقتہ من طلوع الفجر الی طلوع الشمس ولو مارا کما فی عرفۃ
وفی الھندیة:(1/230،رشیدیہ)
ثم وقت الوقوف فیہا من حین طلوع الفجر الی ان یسفر جدا فاذا طلعت الشمس خرج وقتہ…… وقبلہ وبعدہ لایجوز
وکذافی فقہ الحنفی:(1/490،طارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/405،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(3/515،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/2248،رشیدیہ)
وکذافی ارشادالساری:(1/242،فاروقیہ)
وکذافی الھدایة:(1/268،میزان)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:143