سوال

ذکر بالجہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں؟

جواب

الجواب حامدا ومصلیا

ذکر بالجہر جائز ہے بشرطیکہ آوازبہت زیادہ بلند نہ ہو اور کسی کی بے اکرامی اور تکلیف کا سبب نہ ہو۔

لمافی الصحیح لمسلم:(2/345،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول اللہ عز وجل انا عند ظن عبدی بی وانا معہ حین یذکر نی فی نفسہ ذکرتہ فی نفسی وان ذکرنی فی ملأذکرتہ فی ملأ خیر منھم وان تقریب منی شبرا تقربت الیہ ذراعا وان تقرب الی ذراعا تقربت منہ باعا وان اتانی یمشی اتیتہ ھرولۃ․
وکذافی تفسیر المظھری:(3/40،رشیدیہ)
لعل الصوفیۃ الجشتیۃ قدس اللہ تعالی اسرارھم اختاروا الجھر للمبتدی لاقتضاء حکمۃ وہی طرد الشیطان ودفع الغفلۃ والنسیان وحرارۃ القلب و اشتغال نائر ۃ الحب بالریاضۃ
وکذافی الفتاویٰ الشامیہ:(9/656،رشیدیہ)
واما رفع الصوت بالذکر فجائز کما فی الاذان والخطبۃ والجمعۃ والحج۔ وقد حرر المسا لۃ فی الخیر یہ و حمل ما فی فتاوی قاضی علی الجہر المضر وقال ان ھناک احادیث اقتضت طلب الجہر ، واحادیث طلب الاسرار ، والجمع بینہما بان ذلک یختلف باختلاف الاشخاص والاحوال ، فالاسرارافضل حیث کیف الریاء او تاذی المصلین او النیام․والجہر افضل حیث خلا مما ذکر انہ اکثر عملا ولتعدی فائدتہ الی السامعین ویوقظ قلب الذاکرفیجمع ھمہ الی الفکر و یصرف سمعہ الیہ و یطرد النوم ویزید النشاط
وکذافی جامع الترمذی:(2/677،رحمانیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(5/240،امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(5/315،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
9/7/1443-2022/2/11
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:168

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔