سوال

زکوۃ کی رقم سےنابالغ بھانجوں اور بھتیجوں کو کپڑے یا دیگر ضروریات ِزندگی سے متعلق اشیاء خریدکر دے سکتا ہے ،جبکہ بھائی یا بہنوئی ، بہن یا بھابھی صاحب نصاب ہیں ،لیکن نصاب زیادہ سے زیادہ ½52تو لہ چاندی کی بقدر ہے اور مہنگائی بہت زیادہ ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

اگر بھا ئی یا بہنوئی صاحب نصاب ہیں تو نا بالغ بھتیجو ں یا بھانجو ں کو زکوۃ نہیں دے سکتا ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (3/1971،رشیدیة)
ولایجوز دفع الزکاۃ لولدالغنی اذاکان صغیرا لان الولد الصغیر یعد غنیا بغنی ابیہ ویجوز اعطاءھا لہ اذا کان کبیرا فقیرا لانہ لایعد غنیا بما ل ابیہ فکان کالاجنبی
وفی بدائع الصنائع : (2/158،رشیدیة)
واما ولد الغنی فان کان صغیرا لم یجز الدفع الیہ وان کان فقیرا لامال لہ لان الولد الصغیر یعد غنیا بغنا ابیہ وان کان کبیرا فقیرا یجوز ،لانہ لا یعد غنیا بمال ابیہ فکان کالاجنبی
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی :(239،البشری )
وکذا فی المحیط البرھانی :(3/212،ادارة القرآن)
وکذا فی الشامیة:(2/350،ایم سعید)
وکذا فی الموسو عة الفقہیة:(23/315،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/2022/19/8/1443
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:52

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔