سوال

زید کی بہن سمیہ عمرو کے نکاح میں ہے زید اور عمرو میں کچھ اختلافات تھے تو زید نے اپنی بہن کو گھر بلایا اورکہا اگرمیں اس کو کل اس کے خاوند کے ساتھ جانے دوں تو میری بیوی کو تین طلاق۔ زید کا ماموں اس کی بہن کورات کے وقت ہی زبردستی لے گیا تو اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں شرط) شوہرکے ساتھ کل جانا)نہیں پائی گئی اس لیے طلاق نہیں ہوگی ۔

لما فی المبسوط:(6/117،دارالمعرفة)
وان قال أنت طالق قبل قدوم فلان بشھر فقدم فلان قبل تمام الشھر لم تطلق لأنہ أضاف الطلاق الی وقت منتظر وہو اول شھر یتصل بآخرہ قدوم فلان فیراعی وجود ھذا الوقت بعد الیمین ولم یوجد
وفی المحیط البرھانی:(5/13،داراحیاءتراث)
ولو قال لامرأتہ أنت طالق قبل دخولک الداربشھر اوقال لھاأنت ِطالق قبل قدوم فلان بشھر فدخلت الدارأو قدم فلان قبل تمام الشھر من وقت الیمین لاتطلق لان الطلاق( الضاف الی وقت موصوف بصفۃ ینصرف )الی وقت فی المستقبل
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/502،رشیدیہ)
وکذافی القدوری:(/174،الخلیل)
وکذافی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(4/246،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/420،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/203،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(4/569،فارقیہ)
وکذافی ردالمحتار:(3/364،ایچ ایم سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/183،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:34

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔