سوال

ساہیوال کا ایک شخص لاہور ہسپتال میں زیرعلاج تھا وہیں فوت ہوگیا اس کےساتھ اس کا بیٹا اور بھائی تھے ،باقی تمام رشتہ داراور متعلقین ساہیوال میں ہیں اس کی میت کو ساہیوال لانا جائز ہے یالاہور میں ہی دفن کیا جائے؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

اگر مرحوم کی رہائش وہاں نہ ہو بلكہ علاج یا تجارت کی غرض سےیاکسی اور ضرورت سےوہاں گیاتھا اس صورت میں اگرچہ ساہیوال لانابھی جائزہےمگربہتریہی ہےکہ وہیں دفن کیاجائے لیکن اگرمرحوم کی عارضی رہائش بھی وہاں تھی پھر واپس لانا مکروہ ہوگا۔

لمافی خلاصة الفتاوی:(4/345،رشیدیہ)
نقل المیت من بلد ۃ الی بلدۃ لایکرہ فی العیون ۔۔۔وذکرالامام السر خسی انہ یکرہ الاقدر میل او میلین الکل فی الفتاوی قال الفقیہ فان حمل من بلدالی بلدلا یکون اثما۔۔۔وروی ان سعدبن وقاص رضی اللہ عنہ مات فی ضیعۃ علی اربعۃ فراسخ من المدینۃ فحمل علی اعناق الرجال الی المدینۃ
وکذافی الہندیة)1/195،رشیدية)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/66،داراحیاء)
وکذافی التاتا رخانية:(3/81،فاروقية)
وکذافی البحرالرئق:(2/342،رشیدية)
وکذافی مجمع الانھر:(1/276،المنار)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/7/1440 ، 2019/3/27
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :129

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔