سوال

سسر نے اپنے بیٹے کی طرف سے اپنی بہو کو طلاق دی پھر اس عورت نے جا کر دوسری شادی کر لی جب اس کا پہلا شوہر آیا تو اس نے کہا میں نے تجھے طلاق نہیں دی، تو نے دوسری شادی کیسے کی ہے؟ لڑکی نے کہا تمہارے والد نے تمہاری طرف سے طلاق دی ہے۔ کیا اس لڑکی کا دوسرا نکاح ہوگیا یا نہیں؟ اگر نہیں ہوا ہے تو جب یہ دوسرے شوہر کے پاس آئے گی تو جس مرد کے ساتھ نکاح درست نہیں تھا اس نے ہم بستری کی ہے، اس کی عدت گزارے گی یا نہیں؟ براہ مہربانی تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ مسئلہ میں اگر لڑکا اپنی بات میں سچا ہے تو اس لڑکی کا دوسرا نکاح جائز نہیں ہے۔ لہذا لڑکی فورا دوسرے شوہر سے الگ ہو جائےاور اس کا پہلا شوہر تین حیض گزر جا نے سے پہلے اس کے پاس نہیں جا سکتا۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 9/6883و6602الی6604 ، رشیدیہ)
طلاق غير الزوج: لا يصح طلاق غير الزوج، لحديث «لا طلاق قبل النكاح، ولا عتق قبل
ملك»
وفیہ ایضا:
والزواج الفاسد عند الحنفية: هو مافقد شرطاً من شروط الصحة، وأنواعه:۔۔۔ وزواج امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة، (وعلی الصفحۃ التالیۃ)وبالرغم من كون الدخول في الزواج الفاسد معصية، فإنه عند الحنفية تترتب عليه ـ أي بالوطء في القبل لا بغيره كالخلوة ـ الأحكام التالية:(وعلی الصفحۃالآتیۃ)وجوب العدة على المرأة من حين التفريق بينهما عند جمهور الحنفية وهو الصواب في المذهب
وفی الفتاوی الھندیہ: ( 1/ 526،رشیدیہ )
لو كان النكاح فاسدا ففرق القاضي۔۔۔ إن فرق بعد الدخول كان عليها الاعتداد من وقت التفريق، وكذا لو كانت الفرقة بغير قضاء كذا في الظهيرية.
وکذافی المستدرک علی الصحیحین: ( 2/874 ،قدیمی ) وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ : ( 41/318 ،علوم اسلامیہ )
وکذافی الھدایہ مع فتح القدیر : ( 4/ 288 ،رشیدیہ ) وکذا فی التاتار خانیہ: (4 /377 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذافی کنز الدقائق مع النھر الفائق: (2 /474 ،475،قدیمی )،وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: ( 29/ 14 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26-07-1440، 3-04-2019
جلدنمبر:18 فتوی نمبر :162

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔