الجواب حامداً ومصلیاً
ناقابل استعمال کپڑے کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں اور قابل استعمال کپڑا آپ گاہک کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کرسکتے، البتہ اجازت کے لیے یہ بھی کافی ہے جو آپ نے وزٹنگ کارڈ وغیرہ کی صورت تحریر کی ہے۔
لما فی الفتاوی التاتارخانیہ: (15 /298 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
23133-:-م: اذا دفع الی خیاط کرباسا، فخاطہ قمیصا وبقی منہ قطعۃ، فسرقت القطعۃ فھو ضامن.
وفی شرح المجلہ: (1/264 ، رشیدیہ)
لا یجوز لاحد ان یاخذ مال احد بلا سبب شرعی۔ ای لا یحل فی کل الاحوال عمدا او خطا او نسیانا، جدا او لعبا، ان یاخذ احد مال احد بوجہ لم یشرعہ اللہ تعالی ولم یبحہ، لان حقوق العباد محترمۃ لا تسقط بعذر الخطا والنسیان والھزل وغیرہ
وکذافی المحیط البرھانی: (11 /365 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی سنن ابی داؤد : (2 /146 ،رحمانیہ )
وکذافی عون المعبود: ( 9/238 ،قدیمی )
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 4/ 455 ،رشیدیہ )
وکذافی الشامیہ : ( 9/305 ،دار المعرفہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440، 2019-04-1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :161