سوال

ہمارا درزی کا پیشہ ہے، جو لوگ ہم سے سوٹ سلواتے ہیں عموما ان کے دیے ہوئے کپڑوں میں سے کم وبیش کچھ نہ کچھ مقدار بچ جاتی ہے۔ کبھی ہمیں دینا بھول جا تا ہے اور وہ بھی نہیں پوچھتے اور کبھی وہ شاگردوں سے سوٹ لے کر چلے جاتے ہیں اور بچے ہوئے کپڑے کا میرے علم میں بھی نہیں ہوتا ہے؟ لہذا کپڑے کی وہ کتنی مقدار ہوگی کہ اگر ہم وہ رکھنا چاہیں تو بلا اجازت رکھ لیں؟ اور اگر ہم اپنے “وزٹنگ کارڈ” وغیرہ پر لکھ دیں کہ “اپنا بچا ہوا کپڑا واپس لے سکتے ہیں ۔” اس صورت میں بھی وہ واپس نہ لیں تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ناقابل استعمال کپڑے کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں اور قابل استعمال کپڑا آپ گاہک کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کرسکتے، البتہ اجازت کے لیے یہ بھی کافی ہے جو آپ نے وزٹنگ کارڈ وغیرہ کی صورت تحریر کی ہے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ: (15 /298 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
23133-:-م: اذا دفع الی خیاط کرباسا، فخاطہ قمیصا وبقی منہ قطعۃ، فسرقت القطعۃ فھو ضامن.
وفی شرح المجلہ: (1/264 ، رشیدیہ)
لا یجوز لاحد ان یاخذ مال احد بلا سبب شرعی۔ ای لا یحل فی کل الاحوال عمدا او خطا او نسیانا، جدا او لعبا، ان یاخذ احد مال احد بوجہ لم یشرعہ اللہ تعالی ولم یبحہ، لان حقوق العباد محترمۃ لا تسقط بعذر الخطا والنسیان والھزل وغیرہ
وکذافی المحیط البرھانی: (11 /365 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی سنن ابی داؤد : (2 /146 ،رحمانیہ )
وکذافی عون المعبود: ( 9/238 ،قدیمی )
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 4/ 455 ،رشیدیہ )
وکذافی الشامیہ : ( 9/305 ،دار المعرفہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440، 2019-04-1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :161

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔