سوال

سنار کے پاس ایک آدمی آ کر قرض مانگتا ہے ،سنار کہتا ہے رقم نہیں ہے البتہ سونا ہے ۔ آدمی کہتا ہے مجھے رقم کی ضرورت ہے کسی طرح میرا مسئلہ حل فرما دیں ،سنار کہتا ہے سونا مجھ سے ادھار خرید کر دوسرے سنار کے پاس جاکر بیچ دو اب سنار اس کو سونا موجودہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ مہنگے ریٹ پر فروخت کرتا ہے ۔پھر آدمی جب وہی سونا دوسرے سنار کے پاس فروخت کرتا ہے،تو وہ سنار اس آدمی سے سونا موجودہ مارکیٹ ریٹ سے خریدتا ہےجس سے آدمی کو فوراً نقصان تو ہوتا ہےلیکن اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا لین دین کرنا دونوں سناروں اور اس آدمی کے لیے جائز ہے یا نہیں ؟ ورنہ متبادل صورت تجویز فرما دیں۔

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر کبھی کبھار ایسی صورت پیش آ جائے تو درست ہے لیکن دوسرے کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اخلاقاً درست نہیں ، اگر مستقل یہی معمول بنا لیا کہ ہر قرض کا مطالبہ کرنے والے کو مہنگا بیچنا شروع کر دیا تو یہ درست نہیں کیونکہ یہ سود کمانے کا ایک حیلہ ہی بن جائے گا۔

لمافی التنویر والدر:(7/415،رشیدیہ)
شراء الشئ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض یجوز ،ویکرہ واقرہ المصنف.
وفی الشامیۃ: قولہ (یجوز ویکرہ) ای: یصح مع الکراھۃ ،ھذا لو الشراء بعد القرض لما فی الذخیرۃ: وان لم یکن النفع مشروطاً فی القرض ولکن اشتری المستقرض من القرض بعد القرض متاعاً بثمن غال فعلی قول الکرخی: لا باس بہ،وقال الخصاف: ما احب لہ ذلک، وذکر الحلوانی انہ حرام
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/222،الطارق)
واختف آراء المشایخ فی شراء الشئ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض،قال فی الدر المختار یجوز ویکرہ
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(3/224،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(4/24،دار المعرفہ)
وکذافی الشامیہ:(7/433،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(6/261،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(10/13،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25،7،1443/2022،2،27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:7

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔