الجواب حامداً ومصلیاً
قادیانی کے علاوہ غیرمسلموں کے ساتھ بوقت ضرورت کھانے کی گنجائش ہے بشرطیکہ کھانا حلال اور پاک ہو اور ان کے ہاتھوں پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہو ، تاہم حتی الوسع بچنا اولیٰ ہے ۔
لما فی التاتارخانیة:(18/166،فاروقیہ)
ولاباس بطعام المجوسی کلھا الا الذبیحۃ….. ولم یذکر محمد الاکل مع المجوسی ومع غیرہ من اھل الشرک انہ ھل یحل ام لا حکی عن الحاکم الامام عبدالرحمٰن الکتاب انہ ان ابتلی بہ المسلم مرۃ او مرتین فلاباس بہ واما الدوام علیہ یکرہ
وفی خلاصة الفتاوی:(4/346،بیروت)
والاکل معہم وعن الحاکم عبد الرحمٰن لو ابتلی بہ المسلم مرۃ او مرتین لاباس بہ اماالدوام علیہ فمکروہ ولاباس بالذھاب الی ضیافۃ اھل الذمۃ
وکذافی الھندیة:(5/345،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/69،بیروت)
وکذافی تفسیر ابن کثیر:(2/360،بیروت)
وکذافی الطبقات الکبری:(1/152،عمریہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/2021/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:170