سوال

ایک شخص کا آبائی گھر ملتان ہے ،وہاں اس کا مکان بھی ہے ، لیکن وہ خود فیملی سمیت مستقل طور پر لیہ میں شفٹ ہوگیا ہے اور عرصہ بیس سال سے وہاں کرایہ کے مکان میں رہتا ہے ، بچے اور کاروبار سب وہیں پر ہے ، وہ ملتان اپنے والدین سے ملنے آیا ، تو اٹیک ہونے کی وجہ سے فوت ہوگیا ، اب کیا اس کی بیوی ملتان میں عدت گزارےیا لیہ میں؟بچوں کا کہنا ہے کہ لیہ میں عدت گزارے ورنہ ان کو بہت تنگی ہوگی۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

شوہر کی وفات کے وقت عورت جس گھر میں مستقل رہائش پذیر ہو، اسی گھر میں عدت گزارے گی، لہذا صورت مسئولہ میں مرحوم کی بیوی لیہ میں عدت گزارے گی نہ کہ ملتان میں۔

لما فی البدائع:(3/325،رشیدیہ)
ومنزلھا الذی تومر بالسکون فیہ للاعتداد ھو الموضع الذی کانت تسکنہ قبل مفارقۃ زوجھا وقبل موتہ سواء کان الزوج ساکنا فیہ او لم یکن
وفی ردالمحتار:(5/229،رشیدیہ)
والمرادبہ ما یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ والموت سواء کان مملوکا للزوج او غٰیرہ
وکذافی مجمع الانھر:(2/155،المنار)
وکذافی الھدایة:(3/407،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(6/34،بیروت)
وکذافی البحرالرائق:(4/269،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(9/7201،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1442/2020/1/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:106

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔