سوال

فجر کی نماز میں ایک رکعت میں کم از کم کتنی آیات کی تلاوت ہونی چاہیے مسنون کیا ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز فجر میں مسنون قرات کے مختلف آثار موجود ہیں ،نمازیوں کی حالت کا اعتبار کرتے ہوئے دونوں رکعتوں میں چالیس سے سو آیات تک تلاوت کی جاسکتی ہیں۔

لما فی المحیط البرھانی :(2/43، احیاء تراث العربی)
ذکر فی الجامع الصغیر انہ یقرء فی الفجر فی الرکعتین باربعین او خمسین او ستین سوی الفاتحۃ الکتاب ۔۔۔۔۔۔۔ وذکر فی الاصل انہ یقرء باربعین سوی الفاتحۃ الکتاب ۔۔۔۔ والآثار قد اختلفت عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فعنہ انہ کان یقرء فی الفجر من ستین آیۃ الی مئۃ
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/474،رشیدیہ)
واما القدر المستحب من القراءۃ فقد اختلف الروایات فیہ عن ابی حنیفۃ ذکر فی الاصل ویقرء الامام فی الفجر فی الرکعتین جمیعا باربعین آیۃ مع فاتحۃ الکتاب ،ای سواھا ،وذکر فی الجامع الصغیر باربعین ،خمسین ،ستین سوی الفاتحۃ الکتاب ،وروی الحسن فی المجرد عن ابی حنیفۃ مابین ستین الی مائۃ ،وانما اختلف الروایات لاختلاف الاخبار
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/62، فاروقیہ)
وکذا فی الجوھرةالنیرة:(1/156، قدیمی)
وکذا فی الفتاوی النوازل:(77،الحقانیہ )
وکذا فی البحر الرائق:(1/595،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/226،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
2،8، 1440،2019، 4، 8
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:191

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔