سوال

فوج میں ایسا ہوتا ہے کہ ہر ملازم کی تنخواہ میں سے کچھ رقم مستقل طور پر کاٹی جاتی ہے اور بعض لڑکے جو رقم ضروری طور پر کاٹی جاتی ہےاس سے زائد رقم بھی کٹواتے ہیں ،پھر جب ان کی رقم مثلاً :ایک لاکھ روپے تک پہنچ جائے تو نکلوا نا چاہیں تونکلوا بھی سکتے ہیں اور اس پر ان کو اضافی رقم بھی ملتی ہے،سوال یہ ہے کہ یہ اضافی رقم سود میں داخل ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

پراویڈنٹ فنڈ پر جو رقم محکمے کی طرف سے دی جاتی ہے وہ شرعاً سود نہیں ہے،لہذا اس کا لینا اور استعمال کرنا جائز ہے۔جبری اوراختیاری فنڈدونوں کا حکم یہی ہے۔البتہ جو رقم اپنے اختیار سے کٹوائی جاتی ہے اس پر ملنے والی زیادتی کو احتیاطاً صدقہ کر دیں تو بہتر ہے۔

(فتاوی عثمانی:03/307،معارف القرآن)
(امدادالفتاوی:03/151،دارالعلوم کراچی)

واللہ اعلم بالصواب

ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

24/06/1445/7/01/2024

جلد نمبر :31 فتوی نمبر :83

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔