الجواب حامداً ومصلیاً
پراویڈنٹ فنڈ پر جو رقم محکمے کی طرف سے دی جاتی ہے وہ شرعاً سود نہیں ہے،لہذا اس کا لینا اور استعمال کرنا جائز ہے۔جبری اوراختیاری فنڈدونوں کا حکم یہی ہے۔البتہ جو رقم اپنے اختیار سے کٹوائی جاتی ہے اس پر ملنے والی زیادتی کو احتیاطاً صدقہ کر دیں تو بہتر ہے۔
(فتاوی عثمانی:03/307،معارف القرآن)
(امدادالفتاوی:03/151،دارالعلوم کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/06/1445/7/01/2024
جلد نمبر :31 فتوی نمبر :83