سوال

مسافر مسبوق نے کسی مسافر امام کی اقتداکی اور اس کو مقیم سمجھ کر چار رکعت پوری کر لیں تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس صورت  میں مقتدی مسافر کی نماز نہیں ہوئی لہذا دوبارہ دو رکعت قصر پڑھے۔

لمافی البحرالرائق: (02 / 238 ، رشیدیة)
ویستحب ان یقول ذٰلک بعدالسلام کل مسافرصلی بمقیم لاحتمال ان خلفہ لایعرف حالہ ولایتیسّرلہ الاجتماع بالامام قبل ذھابہ فیحکم حینئذٍبفسادصلاۃنفسہ بناءعلی ظن اقامۃالامام ثم افسادہ بسلامہ علی راس الرکعتین،وھذا محمل مافی الفتاوی اذااقتدی بالامام لایدری اَمسافر ھوام مقیم لایصح لان العلم بحال الامام شرط الاداء بجماعۃ،لاانہ شرط فی الابتداءلمافی المبسوط:رجل صلّی الظہربالقوم بقریۃ او مصررکعتین وھم لایدرون اَمسافرھو ام مقیم فصلاتھم فاسدۃ سواء کانوامقیمین ام مسافرین،لان الظاہرمن حال من فی موضع الاقامۃ انہ مقیم والبناءعلی الظاہرواجب حتّی یتبیّن خلافہ فان سألوہ فأخبرھم انہ مسافرجازت صلاتھم
وفی الدرالمختار مع الرد: (02 /129  ،سعید )
وندب للامام)ھذا یخالف الخانیۃ وغیرھاان العم بحال الامام شرط لکن فی حاشیۃ الھدایۃ للھندی الشرط العم بحالہ فی الجملۃ لافی حال الابتداء وفی شرح الارشاد ینبغی ان یخبرھم قبل شروعہ والا فبعد سلامہ (ان یقول) بعد التسلیمتین فی الاصح (اتمواصلاتکم فاِنّی مسافر) لدفع توھم انہ سھا
وفی الرد: (02 /129  ،سعید )
نعم ذکرفی البحرعن المبسوط والقنیۃماحاصلہ:انہ اذاصلی فی مصراو قریۃرکعتین ،وھم لایدرون حالہ فصلاتھم فاسدۃوان کانوامسافرین لان الظاھرمن حال من کان فی موضع الاقامۃانہ مقیم والبناءعلی الظاھرواجب حتّی یتبیّن خلافہ امااذاصلی خارج المصرلاتفسد، ویجوزالاخذبالظاھروھوالسفرفی مثلہ.والحاصل انہ یشترط العلم بحال الامام اذاصلّی بہم رکعتین فی موضع اقامۃ والّافلا. (قولہ قبل شروعہ)ای لاحتمال ان یکون معہ من لایعرف حالہ فیتکلّم لاعتقادہ فسادصلاتہ قبل اخباربعدالسّلام
وکذافی التاتارخانیة: (02 /515  ،فاروقیة )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدرالمحتار: (01 /335  ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (02 /1339  ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (01 /139، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب

ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

13/08/1445/24/2/2024

جلد نمبر:32 فتوی نمبر :54

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔