الجواب حامداً ومصلیاً
جی ہاں آپ اپنی خوشی سے اپنے بھائی کی نمازوں کا فدیہ ادا کر سکتے ہیں، امید ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کی جانب سے قبول فرمالیں گے۔
مرحوم کی بلوغت کے بعد کی قضانمازوں کا اندازہ لگائیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ گھر والوں کو اس بچے کے بارے میں علم ہوگا کہ اس نے کب سے نماز پڑھنا شروع کی ہے اور دن میں کتنی نمازیں پڑھتا تھا اور کس نماز میں سستی رہی ہے ، لہذااس سب کو پیش نظر رکھ کر اندازہ لگائیں پھر غالب رائے کے مطابق جتنی نمازیں قضا ہوں(وتر کا فدیہ الگ سے) ان کا فدیہ ادا کریں۔ ایک نماز کا فدیہ محتاط قول کے مطابق سوا دو کلو گندم یا اس کی موجودہ قیمت ہو گی۔مفتی بہ قول کے مطابق بلوغت کی عمر پندرہ سال ہے۔
چونکہ مرحوم نے وصیت نہیں کی،اس لیے ورثاء کا یہ عمل اگرچہ نفلی ہی ہے لیکن ادائیگی کے اعتبار سے چونکہ فدیہ ہےاس لیے فقہاء کرام نے اس صورت میں بھی کسی مستحق کو مالک بنانے کی صراحت فرمائی ہے ،لہٰذا مسجد ومدرسہ میں خرچ کرنا درست نہیں ہے۔
لمافی الھندیة: (01 / 125 ، رشیدیة)
وان لم یوص لورثتہ وتبرّع بعض الورثۃ یجوزویدفع عن کل صلوۃ نصف صاع حنطۃ منوین ولودفع جملۃ الی فقیرواحد جاز
وفی الفقہ الاسلامی: (02 /1152 ،رشیدیۛة )
وتؤخذ الکفارۃ وفدیۃ الصوم: من ثلث المال المتوفّی .فان لم یکن لہ مال یستقرض وارثہ نصف صاع مثلاً، ویھبہ للفقیر،ثم یھبہ الفقیرلولی المیت ویقبضہ،ثم یدفعہ الولی للفقیر،فیسقط من الصلاۃ والصوم بقدرہ، وھکذا حتی یتم اسقاط ماکان علیہ من صلاۃ وصوم
وکذافی الدرالمختارمع الرد: (09 /643،259 ،بیروت )
وکذا فی مراقی الفلاح مع حاشیتہ: ( 437،438 ،قدیمی )
وکذافی غنیة المستملی: ( 535 ،رشیدیة )
واللہ اعلم بالصواب
ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/08/1445/2/3/2024
جلد نمبر:32 فتوی نمبر:50