الجواب حامداً ومصلیاً
آپ کے ان رشتہ داروں میں سے جس کے پاس سونا ،چاندی ،نقدی،مالِ تجارت اورضرورت سے زائد سامان ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کے برابرنہیں ہےتو آپ ان کو زکٰوۃ دے سکتےہیں۔
لمافی بدائع الصنائع: (02/ 159 ،رشیدیة)
وذکر فی الفتاوٰی فیمن لہ حوانیت ودورالغلّۃ لٰکن غلّتھالاتکفیہ ولعیالہ انہ فقیر ویحل لہ اخذالصدقۃ عندمحمد وزفروعندابی یوسف لایحلُّ وعلی ھذا اذاکان لہ ارض و کرم لٰکن غلتہ لاتکفیہ ولعیالہ ولوکان عندہ طعام لقوت یساوی مأتیی درھم ،فان کان کفایۃ شہر تحل لہ الصدقۃ وان کان کفایۃ سنۃ قال بعضھم:لاتحل وقال بعضھم تحل لان ذٰلک مستحق الصرف الی الکفایۃ والمستحق ملحق بالعدم.وقد روی ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِدَّخرلنسائہ قوت سنۃ،،ولو کان لہ کسوۃ شتاء وھو لایحتاج الیھافی الصیف یحل لہ اخذ الصدقۃ ذکرھذاہ الجملۃ فی الفتاوٰی وھذاقول اصحابنا
وفی الھندیة: (01/ 189،رشیدیة )
وکذالوکان لہ حوانیت اودارغلۃ تساوی ثلاثۃآلاف درھم وغلتھا لاتکفی لقوتہ وقوت عیالہ یجوز صرف الزکٰوۃ الیہ فی قول محمد رحمہ اللہ
وکذافی الفقہ الاسلامی: (03/ 962،رشیدیة)
وکذافی قاضیخان علیٰ ھامش الھندیة: (01 /266،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (03/ 216 ،فاروقیة )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (01/ 242 ،رشیدیة)
واللہ اعلم بالصواب
ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/08/1445/3/3/2024
جلد نمبر:32 فتوی نمبر :51