سوال

اگرامام میت کے پاؤں کی سیدھ میں کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس صورت میں نماز جنازہ تو ادا ہو جائے گی مگریہ طریقہ غلط ہے کیونکہ امام کے لیے میت کے سینے کے برابر کھڑا ہونا مستحب ہے۔

لما فی الدرالمختار: (الرد،3 /134،بیروت )
ویقوم الامام) ندباً(بحذاءالصدرمطلقاً) للرجل والمراۃ،لانہ محل الایمان والشفاعۃ لاجلہ
وفی الفتاوی التاتارخانیة: (3 / 41 ،فاروقیة )
وقال محمد رحمہ اللہ فی الجامع الصغیر:یقوم الامام عند الصلوۃ بحذاءالصدر من الرجل ومن المراۃ ھذاھو جواب ظاھرالروایۃ
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /242  ، امدادیة)
وکذا فی البحرالرائق: (2 / 327 ،رشیدیة )
وکذافی ردالمحتار: (3 /134  ،بیروت )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (2 /1524،رشیدیه )
 وکذافی بدائع الصنائع: (2 / 49 ، رشیدیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /374  ،رشیدیة )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی المراقی: ( 583  ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب

ابومحمدتنویرحسین

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

17/03/1445/2/11/2023

جلد نمبر:30 فتوی نمبر:154

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔