الجواب باسم ملہم الصواب
مشت زنی حرام فعل ہے ،لہذا بیوی سے جماع کے وقت منی کو محفوظ کر لیا جائے لیکن اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو اور جلق ہی ضروری ہو تو اس کی گنجائش ہے ۔
لمافی الشامیۃ:( 1/27،رشیدیۃ)
” (قولہ الاستمناء حرام )ای با لکف اذاکان لاستجلاب الشہوۃ.”
و فی الفتاوی الھندیۃ:(5 355/،رشیدیۃ)
“یجوز للعلیل شرب الدم والبول واکل المیتۃ للتداوی اذا اخبرہ طبیب مسلم ان شفاءہ فیہ ولم یجد من المباح مایقوم مقامہ .”
وکذافی التنویر وشرحہ:(4 /27،رشیدیۃ)
وکذا فی المحیط البرھانی:( 8/82،دار احیاء)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ: (18/200،فاروقیۃ)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(12/105 ،دار احیاء)
وکذا فی تفسیر المظھری :(5/93،رشیدۃ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1440،2019/4/14
جلدنمبر:19 فتوی نمبر:3