الجواب حامداً ومصلیاً
دویاتین آدمی بغیراذان واقامت کےامام کےمصلےسےہٹ کرجماعت کرائیں توجائزہے، لیکن اس کی عادت نہ بنائی جائےاوربہتریہ ہےکہ مسجدسےباہرکسی جگہ دوسری جماعت کرائی جائے۔
لما فی بدائع الصنائع:(1/379،رشیدیہ)
“وروی عن أبی یوسف أنہ إنما یکرہ إذا كانت الجماعۃ الثانیۃکثیرۃ، فأما إذا كانوا ثلاثۃ، أو أربعۃ فقاموا فی زاویۃ من زوایا المسجد وصلوا بجماعۃ لا یكرہ.
وروی عن محمدرح أنہ إنما یكرہ إذا كانت الثانیۃعلى سبیل التداعی والاجتماع، فأما إذا لم یكن فلا یكرہ.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1182،رشیدیہ)
“یکرہ تکرارالجماعۃباذان واقامۃ فی مسجد محلۃ،الااذاصلی بہمافیہ اولاغیراہلہ،او اہلہ لکن بمخافۃالاذان ،اوکرراہلہ الجماعۃبدون الاذان والاقامۃ.”
وفی اللباب فی شرح الکتاب:(1/89،قدیمی)
“اذالم تکن الجماعۃعلی ھیئۃالاولی لاتکرہ،والاتکرہ،وھوالصحیح وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئۃ.”
وکذا فی حاشیۃابن عابدین:(1/395،سعید)
وکذا فی البحرالرائق:(1/605،رشیدیہ)
وکذا فی المختصرفی الفقہ الحنفی:(134،البشریٰ)
واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020