سوال

کیانکاح میں ایک مرداوردوعورتیں گواہ بن سکتےہیں

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بن سکتےہیں۔

لما فی الفتاویٰ الھندیہ:(1/237،رشیدیہ)
“ولایشترط وصف الذکورۃحتی ینعقدبحضوررجل وامراتین.”
وفی بدائع الصنائع:(2/527، رشیدیہ)
“وینعقدالنکاح بحضوررجل وامراتین عندنا.”
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(4/36،فاروقیہ) وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(2/66،حقانیہ)
وکذا فی المختصرالقدوری:(157،الخلیل) وکذا فی فتاویٰ النوازل:(161،الحقانیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/65،الطارق)
وکذا فی الخانیۃعلٰی ھامش الھندیہ:(1/331، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔