سوال

محلہ کی مسجد میں دوسری جماعت کرانا جائز ہے یا نہیں؟اور شارع عام پر جو مسجد ہو اس میں جماعتِ ثانیہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجدِ محلہ میں اہل ِمحلہ کا ہیئت اولی پر دوسری جماعت کروانا بالاتفاق  مکروہ تحریمی ہے،البتہ دوسری جماعت اگر ہیئت اولی پر نہ ہویعنی جس جگہ پر پہلی جماعت ہوئی ہواس سے ذرا ہٹ کردوسری جماعت بغیر اذان واقامت کے کرائی جائےتو امام ابو یوسف کے ہاں جائز ہے۔البتہ چند صورتوں میں دوسری جماعت کروانا بالاتفاق جائز ہے(1) مسجد محلہ میں غیر اہلِ محلہ نے جماعت سے نماز ادا کی تو اہلِ محلہ کا مسجد میں دوسری جماعت کروانا جائز ہے۔(2) مسجد محلہ میں بعض اہل محلہ نے نمازتو جماعت سے ادا کی ،لیکن  بغیر اذان کے یا اذان کے ساتھ لیکن اذان کسی نے سنی نہیں تو بقیہ اہل محلہ کا مسجد میں دوسری جماعت کروانا جائز ہے۔(3) مسجد محلہ میں اہل محلہ نے جماعت کروالی تو غیر اہل محلہ کے لیے بغیر تداعی کے جماعت ثانیہ جائز ہے۔(4) ایسی مسجد جس کا امام و مؤذن متعین نہ ہوتو اس مسجد میں بھی دوسری جماعت کرواناجائز ہے۔(5) شارع عام کی مسجد جہاں لوگ پے در پے آتے ہوں تو ایسی مسجد میں ہر گروہ کے لیےاپنی جماعت کرانابالاتفاق جائزہی نہیں بلکہ افضل ہے۔

لما فی الشامیة : ( 2/342  ،رشیدیہ )
 یکرہ تکرار الجماعۃ فی مسجد محلۃ باذان واقامۃ الا اذا صلی بھما فیہ اولا غیر اھلہ او اھلہ لکن بمخافتۃ الاذان ولو کرر اھلہ بدونھما او کان مسجد طریق جاز اجماعاً کما فی مسجد لیس لہ امام ولا موذن ویصلی فوجاً فوجاً فان الافضل ان یصلی کل فریق باذان واقامۃ علی حدۃ
وفی منحة الخالق علی البحر الرائق: ( 1/605  ،رشیدیہ )
فان صلی فیہ قوم من الغرباء بالجماعۃفلاھل المسجد ان یصلوا بعدھم بجماعۃ باذان واقامۃ لان اقامۃ الجماعۃ فی ھذاالمسجد حقھم ،ولھذا کان لھم نصب الموذن وغیر ذلک فلا یبطل حقھم باقامۃ غیرھم وھذا اذالم یکن المسجدعلی قارعۃ الطریق،فان کان کذلک فلا باس بتکرار الجماعۃفیہ باذان واقامۃلانہ لیس اھل معلوم  فکان حرمتہ اخف
وکذافی الھندیة : ( 1/83   ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: ( 1/378  ، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 2/1182  ، رشیدیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ: ( 1/373  ،حقانیہ )
واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمن عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

19/9/1444/10/4/2023

جلد نمبر :30 فتوی نمبر :45

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔