سوال

محمد ارشد ولد محمد کرم بخش فوت ہو چکا ہے،اس کے والدین اس سے قبل فوت ہو چکے ہیں،مرحوم کے پانچ بھائی اور پانچ بہنیں زندہ ہیں،اس کی میراث میں سے کس کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

الجواب بعون الملکِ الوہاب

مرحوم نے بوقت انتقال جو جائیداد منقولہ جیسے؛سونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اور کپڑے وغیرہ یا غیر منقولہ جیسے؛دکان،مکان،فصل،پلاٹ وغیرہ؛غرض ہر چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں،یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنھیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے:1۔میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث نے خود یا کسی اور نے بطور احسان ادا کر دیے تو نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال میں سے وہ قرض ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔3۔اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جائے گا،ان حقوق کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ بچے گا،خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ ہو،اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا:
بقیہ کل جائیداد کے15 حصے کر کےان میں سے 2،حصے(٪13.3333)ہر ایک بھائی کو دیں گےاور ہر بہن کو 1، حصہ (٪6.6666)دیں گے

لما فی شریفیة شرح سراجیة:(26،قدیمی)
ومع الأخ لأب وأم للذکر مثل حظ الانثیین یصرن عصبۃ بہ لاستواءہم فی القرابۃ الی المیت قال اللہ تعالی:وإن کانوا إخوۃ رجالاً ونساء۔۔۔۔۔۔۔الایۃ فلم یقدر نصیب الأخوات فی حالۃالإختلاط۔۔۔۔۔۔۔۔۔فدل ذالک علی أنہن قد صرن عصبات معہم
وکذا فی المحیط البرہانی:(23/295،ادارة القرآن)
“إذا کان معہا بدرجتہا أخ لأب وأم تصیر عصبۃ بہ.”
وفی البحر الرائق:(9/378،رشیدیة)
“إذا کان معہا فی درجتہا أخ ذکر لأب وأم یصیر عصبۃ”

واللہ خیر الوارثین
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/06/1443/2022/02/13
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:11

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔