سوال

حاجی کریم بخش کا انتقال1992ء میں ہوا،مرحوم کی ایک بیوی (نیلوفر)،دو بیٹے(خالد اور عمر)اور دو بیٹیاں (فاطمہ اور رقیہ) زندہ تھیں ابھی میراث تقسیم نہ ہوئی تھی کہ مرحوم کے بیٹے خالد کا انتقال ہو گیا۔خالد کے ورثاء میں 5 بیٹے اور2 بیٹیاں ہیں۔مرحوم کے پاس 7 مرلے کا ایک پلاٹ تھا جس پر اس کے دونوں بیٹوں نے اپنی ذاتی کمائی سے عمارت تعمیر کی،والد کا اس تعمیر میں کوئی دخل نہیں تھا،پوچھنا یہ ہے کہ ان کے درمیان میراث کیسے تقسیم ہوگی؟ نیز بیٹیوں کو صرف پلاٹ سے حصہ ملے گا یا عمارت سے بھی؟

جواب

الجواب بعون الملکِ الوہاب

مرحوم نے بوقت انتقال جو جائیداد منقولہ جیسے؛سونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اور کپڑے وغیرہ یا غیر منقولہ جیسے؛دکان،مکان،فصل،پلاٹ وغیرہ؛غرض ہر چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں،یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنھیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے:1۔میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث نے خود یا کسی اور نے بطور احسان ادا کر دیے تو نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال میں سے وہ قرض ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔3۔اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جائے گا،ان حقوق کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ بچے گا،خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ ہو،اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا

1

۔بقیہ کل ترکہ کے1728 حصے کر کے ان میں سے300 حصے(17.3611٪) کرم بخش کی بیوی نیلوفر کو،504حصے(29.1666٪) کرم بخش کے بیٹے عمر کو،252 حصے(14.5833٪)کرم بخش کی بیٹیوں رقیہ اور فاطمہ میں سے ہر ایک کو،خالد کے پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو 70 حصے(4.050٪) اور خالد کی بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو35 حصے(2.025٪) دیے جائیں گے۔
اور 7 مرلےزمین کی63 سرسائیاں بنتی ہیں،لہذا نیلوفر کو10.9375 سرسائی،کرم بخش کے بیٹے عمر کو18.375 سرسائی،کرم بخش کی بیٹیوں میں سے ہر ایک کو9.1875 سرسائی،خالد کے پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو2.5520 سرسائی اور خالد کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو1.2760 سرسائی دیں گے۔
ملاحظہ: چونکہ زمین میں سے ہر ایک کو بہت تھوڑا حصہ آیا ہےجو بظاہر کسی کام کا نہیں ۔اس کا حل یہ ہے کہ یہ سات مرلے بیچ کر ہر ایک کو فیصدی حصے کے اعتبار سے رقم دے دی جائے۔
2

۔بیٹوں نے چونکہ اپنی ذاتی کمائی سے وہ تعمیر کی ہے۔ان کے والد کااس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے،اس لیے اس تعمیر میں بہنوں کا حصہ نہیں ہو گا۔

 

لما فی قولہ تعالی:(النساء،11)
“فإن کان لہ إخوۃ فلأمہ السدس.”
و قولہ تعالی:(النساء،12)
“فإن کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ۔۔۔۔۔۔الایۃ.”
وفی المحیط البرہانی:(23/288،ادارة القرآن)
“وإن کان للمیت ابن فانہا تصیر عصبۃ بہ.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویقسم المال بینہم للذکر مثل حظ الأنثیین۔۔۔۔۔.”
وفی البحر الرائق:(9/374،رشیدیة)
ومع الولد او ولد الابن وان سفل الثمن لقولہ تعالی:(فان کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم۔۔۔۔۔۔
وفی شریفیة:(21،قدیمی)
ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وہو یعصبہن لقولہ تعالی:(یوصیکم اللہ۔۔۔۔۔۔۔) فإنہ لمّا لم یتبین نصیب البنات عند الاجتماع مع الابن دل علی انہ یعصبہن

واللہ خیر الوارثین
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/07/1443/2022/02/14
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:10

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔